بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "سی ایس آئی ایس (Center for Strategic and International Studies [CSIS])" میں توانائی کی سلامتی پروگرام کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر جوزف ماجکوٹ (Joseph Majkut)، کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا کے ممالک کی نظر میں ایک ناقابل اعتبار اور ناقابل اعتماد اداکار بن چکا ہے۔
تیسری اور آخری قسط:
علاقائی ممالک کو خلیج فارس میں ایران کی طاقت اور پائیدار جغرافیائی سیاسی حقیقت کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہونگے
جوزف ماجکوٹ کا ماننا ہے کہ ایران، کسی بھی قسم کی حکمرانی اور کسی بھی قسم کے سیاسی نظام کے ساتھ، خلیج فارس میں ایک مستقل جغرافیائی سیاسی طاقت اور اٹل حقیقت ہے اور خطے کے عرب ممالک یہ حقیقت، تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ بقائے باہمی پر مجبور ہیں۔
ماجکوٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ مختلف سیاسی رجحانات کے حامل ایرانیوں میں یہ گہرا تاثر پایا جاتا ہے کہ ایران کو خطے میں اہم اور قدرتی طاقت کے طور پر، خلیج فارس میں ایک غالب حیثیت کا حامل ہونا چاہئے۔ اسی لئے ایران میں حکومت کی نوعیت 'ایران اور عرب ممالک کے درمیان مسابقت اور کشیدگی' کو نہیں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
ماجکوٹ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے پاس اس تنازع کو بڑھانے کے لئے زیادہ اوزار اور وسائل موجود ہیں جو اس نے ابھی تک مکمل طور پر استعمال نہیں کئے ہیں۔ جس میں اتحادی افواج کا نیٹ ورک، سرحد پار کاروائیاں، سائبر حملے، اور مختلف مقامات پر کمزور اہداف اور نرم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا، شامل ہیں۔
اس وجہ سے، ان کا خیال ہے کہ ایران کے پاس اب بھی جنگ کو علاقائی سطح پر پھیلانے کی طاقت اور صلاحیت موجود ہے اور موجودہ تنازع کے خاتمے کا مطلب جنگ سے پہلے کے معمولات کی طرف واپسی ہرگز نہیں ہے۔
جنگ میں اضافہ عالمی توانائی کی منڈیوں کی شکست و ریخت کے مترادف
توانائی کے اس ماہر کا دعویٰ ہے کہ عالمی اقتصادی اثرات کے لحاظ سے توانائی کا بحران اب تک نسبتاً قابل انتظام رہا ہے، لیکن توانائی کی منڈی کے سیکیورٹی مارجن میں شدید کمی واقع ہوئی ہے؛ تیل کے ذخائر اور انوینٹریز (ذخائر) کم ہو چکی ہیں، سمندر پر موجود تیل کا حجم کم ہو گیا ہے، اور اس کے نتیجے میں، مارکیٹ میں اب اتنی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ نئے جھٹکے کو جذب (absorb) کر سکے جو اس نے بحران کے آغاز جذب کیا تھا۔
ماجکوٹ کے مطابق، اگر تنازعہ بڑھتا ہے، یا توانائی کی 'سپلائی چین' کا کوئی اور حصہ متاثر ہوتا ہے، تو معاشی نتائج بہت زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ماہر کا خیال ہے کہ امریکہ کے گھریلو سیاسی حسابات، خاص طور پر وسط مدتی انتخابات، ایران کے منصوبوں میں اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
ان کی رائے میں، ایران کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے پاس جنگ جاری رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی اس کا موقع؛ جب تک کہ [ٹرمپ کو] درمیانی مدت کے انتخابات سمیت ملکی سیاسی اور اقتصادی دباؤ کی وجہ سے فوری اور فیصلہ کن فتح حاصل نہیں ہو جاتا۔ لہذا، تہران موجودہ کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور آنے والے سالوں میں اپنے فوائد کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنے کے لئے "سٹراٹیجک صبر" پر انحصار کر سکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ شروع سے ہی ایک تیز اور فیصلہ کن فتح کا خواہاں تھا، لیکن وہ اسے حاصل نہیں کرسکا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس مقصد سے مزید دور ہوتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ